
کبھی کبھی زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو انسان کو اندر سے ہلا دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب جس شخص کو ہم عزت اور بھروسے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسی کے رویے سے ہمیں بے چینی یا گھبراہٹ محسوس ہونے لگے۔
شفقت کے روپ میں چھپی بے چینی
ایک وقت تھا جب ایک استاد ہمیں پڑھانے آتے تھے۔ شروع میں ان کا رویہ ہمارے ساتھ بہت شفقت بھرا تھا۔ وہ بچوں کی طرح ہمارے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے اور ہمیں حوصلہ دیتے تھے۔ جب کوئی طالبِ علم سب سے پہلے سوال کا جواب دیتا تو وہ اس کی تعریف کرتے۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ ہمیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ مجھے ان کے رویے میں ایک ایسی تبدیلی محسوس ہونے لگی جو ٹھیک نہیں تھی۔ کچھ حرکتیں ایسی ہونے لگیں جن سے طالبات اپنے دل میں خوف محسوس کرتی تھیں۔
ایک موقع پر میرے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ اس دن میں بہت روئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کس سے بات کروں اور کیا کروں۔ بالآخر میں نے ایک اور استاد کو اپنی پریشانی بتائی۔ انہوں نے مجھے سمجھایا، تسلی دی اور کہا کہ میں اس شخص سے فاصلہ بنا کر رکھوں۔ میں نے کوشش کی کہ میں اس استاد سے جتنا ہو سکے دور رہوں، لیکن بعد میں جب ان کے رویے سے مجھے دوبارہ برا محسوس ہوا تو میرے ذہن میں ایک سوال آیا:
"جب میں خود ان سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہوں، تو پھر بھی ان کا رویہ مجھے پریشان کیوں کرتا ہے؟"
آخرکار میں نے فیصلہ کیا کہ داخلہ وہیں رہے گا، لیکن میں وہاں جا کر پڑھائی نہیں کروں گی۔ میں نے گھر سے پڑھائی شروع کر دی۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید میں اکیلی نہیں تھی؛ وہاں پڑھنے والی دوسری لڑکیاں بھی اس استاد کے رویے سے گھبرایا کرتی تھیں۔
خاموشی اور خوف: جب نظام ساتھ نہ دے
میرے دل میں خیال آیا کہ اگر ہم طالبات ہیں، تو کیا صرف طالبِ علم ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنے دکھ اور تکلیف کو چھپانا پڑے گا؟ اسی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ ایس-ایچ-او (SHO) کو ایک درخواست دوں۔
میرا مقصد کسی ایک استاد کو نشانہ بنانا، بدنام کرنا یا کسی کی نوکری ختم کروانا نہیں تھا۔ میں صرف چاہتی تھی کہ طالبات کی حفاظت اور استاد و طالبِ علم کے درمیان حدود کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ میرا سوچنا یہ تھا کہ اگر پولیس آگاہی کے طور پر سکولوں کے پرنسپلز سے بات کرے اور سکول انتظامیہ اساتذہ کے ساتھ باقاعدہ میٹنگز کرے، تو کئی مسائل کو شروع ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔
لیکن جب میں نے پولیس سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اگر استاد کو بلایا گیا تو مجھے بھی سامنے آ کر گواہی دینی ہوگی۔ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرا نام سامنے نہیں آنا چاہیے۔ مجھے اپنے مستقبل اور کیریئر کی فکر تھی۔ مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ اگر میں سامنے آ کر بات کروں اور وہاں پڑھنے والی دوسری طالبات خوف کی وجہ سے خاموش رہیں، تو میں اکیلی نشانہ بن سکتی ہوں۔ اسی خوف کی وجہ سے میں نے اپنی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
کبھی کبھی انسان سچ بولنا چاہتا ہے، لیکن اپنی حفاظت، مستقبل اور اکیلے نشانہ بننے کے خوف کی وجہ سے خاموش ہو جاتا ہے۔ اس خاموشی کو ہمیشہ کمزوری سمجھنا ٹھیک نہیں۔
ہمارا دین اور حدود کا تصور
ہمارے دینِ اسلام میں بھی حیا، عزت اور حدود کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام تعلیمی ضرورت کے لیے مرد اور عورت کے درمیان بات چیت کو ہر صورت میں منع نہیں کرتا، لیکن حیا، شرافت اور مناسب انداز کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورۃ الاحزاب، آیت 32 میں گفتگو کے انداز میں حیا اور مناسبت کی ہدایت دی ہے۔
اس لیے استاد اور طالبہ کے درمیان تعلیمی ضرورت کی بات چیت اپنی جگہ ہے، لیکن اس رشتے میں حیا، احترام اور حدود کا ہونا بھی ضروری ہے۔ شفقت وہ ہے جو طالبہ کو تحفظ اور احترام کا احساس دے، نہ کہ خوف یا پریشانی کا۔
ایک محفوظ تعلیمی ماحول کی ضرورت
یہ بات سچ ہے کہ ہر استاد غلط نہیں ہوتا۔ بہت سے اساتذہ ہماری زندگی میں روشنی کی طرح ہوتے ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن ایک اچھے استاد کی پہچان صرف اس کا پڑھانا نہیں، بلکہ طلبہ کی حدود اور عزت کا خیال رکھنا بھی ہے۔
کیا ہوتا اگر ہر سکول میں طلبہ کے لیے ایک ایسا قابلِ اعتماد اور رازدارانہ نظام Confidential System ہوتا جہاں وہ بغیر کسی خوف کے اپنی پریشانی بیان کر سکتیں؟ ایسی کوششوں سے اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا اور طلبہ کو یہ یقین ملتا کہ ان کی عزت اور حفاظت کو اہمیت دی گئی ہے۔
میری یہ بات کسی ایک شخص کو بدنام کرنے کے لیے نہیں ہے۔ میرا مقصد صرف ایک ایسے نظام اور آگاہی کی ضرورت کو سامنے لانا ہے جہاں مستقبل میں کسی بھی طالبِ علم کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
"ایک محفوظ سکول صرف وہ نہیں ہوتا جہاں اچھی پڑھائی ہوتی ہے۔ ایک محفوظ سکول وہ ہوتا ہے جہاں ہر طالبِ علم خود کو محفوظ، باعزت اور اپنی بات سنے جانے کے قابل محسوس کرے۔"
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شفقت تبھی خوبصورت ہے جب اس میں احترام ہو، اور احترام تب ہی مکمل ہے جب اس میں حدود بھی ہوں۔
The article first appeared on The Kashmir Pulse at https://kashmirpulse.com/regional/%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88/%ef%ba%9f%ef%ba%90-%ef%ba%b7%ef%bb%94%ef%bb%98%ef%ba%96-%ef%ae%90%ef%af%bd-%ef%ba%b3%ef%ba%ae%ef%ba%a3%ef%ba%aa-%ef%ad%98%ef%ba%8e%d8%b1-%ef%ae%a8%ef%bb%ae-%ef%ba%9f%ef%ba%8e%ef%ba%8b%ef%ae%af/115280.html
Post a Comment
Refrain from posting comments that are obscene, defamatory or inflammatory, and do not indulge in personal attacks, name calling or inciting hatred against any community. Let's work together to keep the conversation civil.