عنوان نہیں ہے کچھ لکھنے کو
آنسوں ہجوم میں ہیں بکھر نے کو

یہ باغبان ہے صبح سے تھکا ہوا
یہ گل وکلیاں ہیں اب نکھر نے کو

مجھ سے ہار چکے ہیں میرے جزبات
یہ صرف روح ہے وہ بھی نکلنے کو

ہیں ساتھی جان و دل کے بہت قریب
اپنی راہ میں وہ اب سبھی نکلنے کو

وحشت پاچکی ہے میری اک گلستان وادی
گویا شمشادؔ بھی ہے اب نکلنے کو

This post first appeared on The Kashmir Pulse

Post a Comment

Refrain from posting comments that are obscene, defamatory or inflammatory, and do not indulge in personal attacks, name calling or inciting hatred against any community. Let's work together to keep the conversation civil.

Sponsored

Powered by Blogger.