خدا نے اپنی کتاب، قرآن میں قلم کی قسم کھاکر ہم لوگوں کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ یہ قلم کتنا ضروری ہے۔ یہ بات بہت پرانی ہے کہ قلم شمشیر سے زیادہ تیز ہے۔ قلم قوموں کی تقدیروں کو بدلنے میں معاون ہے۔ اس قلم نے ہی قوموں کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس کی بدولت ترقی کی راہیں کھل گئی، تو کبھی غربت کے پھندے نصیب میں آۓ۔ بے زبانوں کو اس نے بولنے والی زبان عطا کئی۔ دبے ہوئے لوگوں کو ابھارا۔ تو کبھی زبان والوں کی ہی زبانیں بند کئی۔ اس کے معنی یہ ہوۓ کہ قلم کا عمل دخل ملا جلا ہے۔

مگر جب آج قلم کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک ذی حس انسان پچھتاوا کۓ بغیر اور کچھ نہیں کرپاتا ہے۔ قلم آج تجارت بن چکا ہے۔ عزت کی سیڑھیاں اترتے اترتے اب یہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے، جہاں اب سے خیر کی توقع کرنا دانشمندی کا کام نہیں ہے۔ یہ قلم ان لوگوں کے ہاتھوں میں دیا گیا ہے، جو اس کے قابل نہیں ہے۔ دکان سے قلم خریدنا اور پھر کچھ الفاظ لکھنا، کسی بھی لحاظ سے قلم کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔ قلم تھامنے کے لئے مخصوص ہاتھوں کی ضرورت ہیں، جو اس کا صحیح اور خوبصورت استعمال کرسکے۔ مگر اب جب کہ قلم غلط ہاتھوں میں آچکا ہے اور یہ اب بک چکا ہے، تو اس کے پیچھے کچھ وجوہات کا عمل دخل ہیں، جن کا ذکر آنے والی سطروں میں کیا جارہا ہے۔

پہلا ہے مادیت۔ اس نے قلم کو ایک خریدنے اور بکنے والی شۓ بنا دیا ہے۔ اس سے اب صرف دولت کمانے کا کام لیا جا رہا ہے۔ ظالم کے حق میں بولنے سے قلم قار کی جھولی میں پیسوں کے انبار لگتے ہیں۔ حق کو ناحق کہنے میں قلم ہچکچاتا نہیں ہے کیونکہ اس سے مادیت کے دروازے کھلتے ہیں۔

دوسری وجہ ہے ظالم کا خوف۔ ہمیشہ سے قلم نے ظالموں کو ننگا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ مظلوموں کے حق میں قلم نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ظالم نے قلم کو خریدا ہے اور اس سے جو کام لینا چاہتا ہے، آرام سے لیتا ہے۔ اس بے بسی نے قلم کو بے سود بنا دیا ہے۔

تیسرا ہے قلم کی اہمیت سے ناواقفیت۔ ایک قلمکار کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ اس کے ہاتھ میں کونسی نعمت ہے۔ اس کی افادیت آنکھوں سے اوجھل ہو چکی ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ میرے ہاتھ میں کچھ پیسوں کی قلم ہے، جو دوسروں چیزوں کی طرح ہے۔ اس کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے۔

چوتھا ہے زمانے کی رفتار۔ اب سائنس نے ترقی کئی ہے۔ انسان کو اب سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔ آج صرف ایک ہی مقصد ہے کہ جتنی بےلگام ترقی ہوسکے، اتنا ہی بہتر۔ اب اخلاقی پیچیدگیوں میں پھنسنا اور قلم کو اس کے تابع کرنا، گزرے ہوئے زمانے کی باتیں ہیں۔ اب اس کے اوپر دیکھنا ہی دانشمندی ہے۔ اس سے قلم کی اہمیت بہت نچلے درجے تک پہنچی ہے۔

وقت کی پکار ہے کہ قلم کے وقار کو بحال کیا جائے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں، جو ہمیں پھر سے قلم کی افادیت سے روشناس کراۓ۔ تہذیبوں کے عروج کے لئے قلم سب سے اہم چیز ہے۔ ہم بھی تو تہزیب یافتہ ہے۔ تو پھر ہم کیوں وقت ضائع کرے۔ کیوں نہ ہم قلم کو ظالم کو للکارنے کے لئے استعمال کرے۔ مادیت سے اوپر اٹھ کر قلم کو روزگار کا ذریعہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر اس کو صرف مادیت کا لباس پہنانا ظلم کی علامت ہے۔ تو آۓ قلم کو اپنا مقام واپس دلانے کی کوشش کرے۔

This post first appeared on The Kashmir Pulse

زندگی جینے کا نام ہے۔ جو دن چلا گیا، اب وہ کھبی لوٹ کر نہیں آۓ گا۔ اور جو آنے والا کل ہے، اس کا کوئی بھی پتہ نہیں ہے۔ تو اس س حال ضروری ہوجاتا ہے۔ جو ماضی میں جیتے ہیں، وہ کھبی نہیں جیتی ہے اور جو مستقل کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، وہ بھی زندگی نہیں جی پاتے ہیں۔ جن لوگوں نے ترقی کے منازل طے کئے ہیں، وہ ہمیشہ حال میں جیتے ہیں، جن سے ان کا مستقبل بھی سنور جاتا ہے۔

مگر ہمارے یہاں حال میں کھبی جیا ہی نہیں جاتا ہے۔ لوگ یا تو ماضی کا دکھ لے کر جی رہے ہیں یا پھر وہ آنے والے ان دیکھے کل کے بارے میں فکر مند ہے، جس کی وجہ سے اندھیروں میں گرے ہوئے ہیں۔ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہے کس وقت میں جینا، مگر پھر بھی پریشان ہے۔ ایسا معاشرہ کھبی بھی ترقی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جہاں پر اصل زندگی اور اصل وقت کا ادراک نہ ہوں۔ آج میں جینے کا مطلب ہے کہ ساری ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ کل کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ آج ہی ہر قسم کی ترقی کو پایا جاسکتا ہے۔

کن قوموں کے نصیب میں یہ بات لکھی ہے کہ وہ حال میں جۓ۔ اس کا سیدھا سا جواب ہے وہ لوگ جن کا کوئی مقصد حیات ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ سارا کچھ نچھاور کرتے ہیں۔ دھوپ اور بارش کی پرواہ کئے بغیر وہ آگے بڑھ رہتے ہیں۔ وہ ماضی کو یاد رکھتے ہیں، مگر وہ نہیں جیتے ہیں۔ ان کی نظروں میں آنے والا کل بھی ہوتا ہے، مگر اس کے لئے صرف تیاریاں کرتے ہیں، وہ بھی جیتے نہیں ہے۔ اس قسم کی سوچ سے کام آسان سے آسان تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس ہمارے یہاں شاندار ماضی کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہاں، کسی حدتک یہ صحیح بھی ہے، مگر مکمل نہیں ہے۔ اگر ماضی شاندار تھا، تو کیوں تھا۔ آج کیوں نہیں ہے۔ اگر اس طرح سوچا جاۓ، تو ہر مشکل کا حل نکل سکتا ہے۔ ماضی میں لوگوں کے اندر کون سے اوصاف تھے، جن کی بدولت آسمان کو چھو گئے۔ اس کے برعکس آج کس چیز کی کمی ہے، جس کی وجہ سے کہ ہماری پہچان ہی کھو گئی ہے۔ کس چیز نے ہمیں بلندی سے اتار کر پستی کا شکار کردیا۔ اور ایک بات ہے کل اچھا ہوگا۔ کل تب تک اچھا نہیں ہوگا، جب تک ہم حال کو ٹھیک نہ کرے۔ ہم سے کہا گیا کہ مستقبل میں ہمارا راج ہوگا۔ آج پٹ رہے ہیں تو کل ضرور جیتے گے۔ اس قسم کی فرسودہ سوچ سے دل بہلاۓ جاتے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ جو آج محنت کرے گا، کل اس کا ہوگا۔ ماضی کی غلطیوں کو راہنما بنا کر، کسی بھی منزل کو پاسکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ آج میں جیا جائے۔

لوگوں کے ذہنوں سے رچے بسے ہوۓ عقائد کی اصلاح کرنا بہت دشوار ہے۔ اس کے لئے کافی جتن کرنے پڑے گے۔ یہ کچھ دنوں کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک لمبا عرصہ مانگتا ہے۔ مگر شروعات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک قدم ترقی کی طرف بہتر ہے ہزاروں باتوں سے جن کا پھل نہ ہوں۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے لوگوں کی بہبودی کے لئے جی رہے ہیں۔ تو ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ سارا یہی موجود ہے۔ ہمیں صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے سارے وسائل کو ہم بھرپور طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں اور آج بھی اور آنے والا کل بھی بہترین کرسکتے ہیں۔ اگر آج یہ نیک کام ہم نہیں کرسکے، تو کل ہمارے لئے خوشی کی بات ہوگی۔

This post first appeared on The Kashmir Pulse
Powered by Blogger.